منگلورو 13؍جولائی (ایس او نیوز)منگلورو یونیورسٹی نے بی کام کے لئے جو نصابی کتاب منظور کی تھی اس میں ایک متنازعہ سبق موجود تھا جس میں ناجائز جسمانی رشتوں کو فطری اور معمولی بناکر پیش کیا گیا تھا۔ اس سبق کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیا پریشد نے شدید احتجاج کیااور طلبہ کے لئے اسے ایک نامناسب پیغام دینے اور ناجائز جنسی تعلقات کو بڑھاوا دینے والا سبق قرار دیا تو یونیورسٹی نے اس سبق کو نصاب سے خارج کردیا ہے۔
کہاجاتا ہے کہ ’بچے کا باپ‘ کے عنوان سے یہ کہانی رو وٹھل ہیگڈے نامی ادیب نے 1939میں لکھی تھی اور کسی کتاب میں شائع ہوگئی تھی۔ اب اس کہانی کویونیورسٹی نے بی کام کے لئے منظور کی گئی کنڑا نصابی کتاب میں شامل کرلیا تو اے بی وی پی والوں نے اسے اخلاقی اقدار کے منافی اور تہذیب کے خلاف پیغام دینے والی کہانی مان کر نصاب سے ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا۔
منگلورو یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم کے مطابق اب اس سبق کو نصاب سے ہٹا لیا گیا ہے۔